بنگلورو21؍اگست(ایس او نیوز) دنیا بھر میں بدامنی پھیلانے کیلئے ہتھیارات اور گولہ بارود کی فروخت ترکاری سے بھی کم داموں میں کرکے شرپسند عناصر ساری دنیا میں افراتفری کا ماحول پیدا کررہے ہیں۔ یہ بات آج منگلور اور گوا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر بی شیخ علی نے کہی۔وہ آج سے 4 ستمبر تک جماعت اسلامی ہند کے زیر اہتمام امن وانسانیت ملک گیر مہم کے افتتاحی جلسہ میں بول رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ آج ملک بھر میں امن وامان برقرار رکھنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ شدت اختیار کرگئی ہے۔ امن وامان برقرار رکھنے کیلئے عوام میں بیداری لانے اور اخلاقی اقدار کو عام کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ملک کے اکثریتی اور اقلیتی فرقہ کے درمیان باہمی بھائی چارہ اور امن وامان ملک کی بقا کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ کس نے اس ملک کو کیا دیا اس پر بحث کرنے سے زیادہ ملک میں امن برقرار رکھنے کیلئے کس نے کیا کیا ہے، اس پر توجہ دی جانی چاہئے۔چند شرپسند طاقتیں اپنے مفاد کی خاطر ملک کے نوجوانوں گمراہ کررہی ہیں اور ایک دوسرے کومارنے کیلئے انہیں ہتھیار مہیا کرارہی ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ آج دنیا کے کسی بھی کونے میں امن برقرار نہیں ہے ۔ خاص طور پر اپنے آپ میں اگر اچھائیوں کو اجاگر کرنے اور اخلاقی اقدار کو عام کرنے کی کوشش کی جائے تو بدامنی کو خود بخود ختم کیاجاسکتا ہے۔ انسانیت ، سیکولرز م باہمی روابط وغیرہ کے سبب ہندوستان کو سارے عالم میں شہرت ملی ، لیکن آج اسی ملک میں بدامنی پھیلائی جارہی ہے تو یہ ملک کیلئے بدنامی کا سبب بنے گا۔ اس موقع پر ڈاکٹر وسندرا بھوپتی نے مخاطب ہوکر کہاکہ ملک کو شروع سے ہی امن کے گہوارہ کے طور پر شہرت حاصل ہوئی ہے ، ہمیشہ سے ملک کے مذہبی رہنماؤں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارگی کا پیغام عام کیا ہے۔ ملک کے آئین کو ساری دنیا کیلئے مثال قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جس نے ملک کے آئین کو سمجھ کر اسے عملی طور پر اپنایا وہ کبھی تشدد کا حامی ہو نہیں سکتا۔ مختصر انسانی زندگی میں تشدد اور ظلم کے ذریعہ وقت ضائع کرنے کی بجائے اگر یہی وقت انسانیت کی خدمت کیلئے لگایا جائے تو انسانی زندگی کامیاب ہوگی۔ آج ملک میں آزادی کے 70؍سال بعد بھی جو صورت حال ہے، ان حالات میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام کے لئے ہر قوم کے بااثر لوگوں کو آگے آناہے، اس کام کی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے دیہات کے سربراہوں، دانشوروں، صحافی وسماجی کارکنوں کے علاوہ تمام مذاہب کے ذمہ داروں کو اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ضرورت ہے۔ آج فریڈم پارک میں جماعت اسلامی ہند کی جانب سے کرناٹک میں ’’امن وانسانیت مہم‘‘ کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر مقررین نے عوام کو یہ پیغام دیا۔ امن وانسانیت مہم آج سے 4؍ستمبر تک پورے کرناٹک میں چلائی جارہی ہے۔ سکریٹری جنرل جماعت اسلامی ہند انجینئر محمد سلیم کی صدارت میں منعقدہ اس افتتاحی تقریب کا افتتاح پروفیسر بی شیخ علی اور امیر شریعت مفتی محمد اشرف علی نے کیا۔ انجینئر محمد سلیم نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ حالیہ دنوں میں ذات اور فرقوں کے نام پر پر تشدد واقعات پورے ملک میں جابجا رونما ہورہے ہیں جو افسوسناک ہے۔ ساتھ ہی آج فرقہ پرستی کا زہر عوام میں تیزی سے پھیلایا جارہاہے۔ ایسے سیاسی وذاتی مفادات کیلئے بعض افراد اور جماعتیں عام افراد کو قربانی کا بکرا بنارہے ہیں اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہاں جمہوریت نہیں ،بلکہ خود انہی کا راج چلتاہے۔ پروفیسر بی شیخ علی صاحب نے اپنے افتتاحی خطاب میں آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد ملک میں بھائی چارہ اور وطن پرستی کے جذبہ کے تحت اقلیتوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج جس طرح انسانیت کاخون کیا جارہاہے اور ملک کے حالات بگاڑکر فرقہ پرستی کا زہر پھیلایا جارہاہے اس کے پس منظر میں تمام مذاہب کے رہنماؤں کی جانب سے ایسی مہم وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ آپ نے کہاکہ ایسے افراد سے عوام کو ہوشیار رہنا ہے جو موت کے سوداگر بن کر ظلم وبربریت پھیلارہے ہیں۔ امیرشریعت محمد اشرف علی صاحب نے اپنے مختصرسے خطاب میں کہاکہ قرآن نے بارہا انسانوں کو احساس دلایا ہے کہ تم سب آدم کی اولاد ہو، تمہارے درمیان باہمی تفرقہ بازی صحیح نہیں ہے۔ اس پیغام کو پھر سے عام کرنے جماعت اسلامی کی یہ مہم وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمارے دین میں ’’عمل‘‘ کی بڑی اہمیت ہے۔ ایمان عمل سے ہی نکلا ہوا لفظ ہے۔ دوسروں کو پریشان نہ کرنا اور اپنے انسانی بھائیوں کو سکون سے جینے دینا ہی مومن کامطلب ہے۔ مومن وہ ہے جس سے دوسروں کو کوئی پریشانی یا تکلیف نہ ہو۔ اس ملک میں جو دستور آزادی کے بعد بناہے اس میں سب کو یکساں حقوق فراہم کئے گئے ہیں اور ہم سب کو اپنے اپنے جذبات واحساسات کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیاگیاہے۔ لیکن افسوس آج ان اصولوں کو بھول کر بدامنی، ظلم وزیادتی کا دورہ چلایا جارہاہے۔ اس کے خلاف پورے ملک میں متحدہ آواز اٹھانا ضروری ہے۔ بنگلور گرودوارہ کے اہم مذہبی لیڈر گیانی بلدیو سنگھ نے کہاکہ گرونانک نے بھی یہی پیغام دیا ہے کہ ہم سب ایک پتا کی نشان ہیں۔ اس ملک میں ایک دور میں 33؍کروڑ کی آبادی پیار ومحبت اتحادو اتفاق سے رہتی تھی اور ہردل میں پیارو محبت بھائی چارہ تھا۔ آج کلجگ آگیا ہے۔ آج سماج میں اچھی سوچ رکھنے والے نیتاؤں اور مذہب کے رہنماؤں کو اپنے پیغامات کے ذریعہ گمراہ لوگوں کی رہنمائی کرکے ان سے پیارومحبت کی جوت جگانی ہے۔ اگر نفرت کا بیج بویا جائے گا تو نفرت ہی پیدا ہوگی۔ عقلمند یہ کوشش کرتے ہیں کہ ایک پیالہ دودھ بھی دریا میں نہ گرایا جائے جتنے دھرم کے ماننے والے ہیں ان سب کے ذمہ داروں اور ہمارے سیاست دانوں کو متحد ہوکر ملک میں امن وشانتی بنائے رکھنے کام کرنا ہوگا۔ سکھ برادری اس کام میں جماعت اسلامی کا بھرپور تعان کرنے تیار ہے۔ کرناٹک ویمنس رایٹرس فورم کی صدر وسندھرا بھوپتی، مولانا زین العابدین نائب صدر جمعیۃ علماء ہند کرناٹک، مولانا مقصود عمران رشادی خطیب وامام سٹی جامع مسجد، بسواسمیتی بنگلور کے صدر اروند جٹی، ڈاکٹر مرلوسدپا، ڈاکٹر سدلنگپا، مولانا عبدالواجد، اہل سنت والجماعت ،عبدالقادر شاہ واجد ، محمد اطہر اﷲ شریف وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ اختتامی اجلاس کے دوران جماعت اسلامی ہند کی جانب سے کل ہند امن وانسانیت مہم کے اغراض ومقاصد اور حکومت ہند سے مطالبات پر مشتمل ایک قرارداد منظور کی گئی اور اعلان کیا گیاکہ یہ قرارداد جماعت اسلامی ہند کے ذمہ داروں اور امن وانسانیت مہم کے ذمہ دار دہلی پہنچ کر صدر ہند کو پیش کریں گے۔ ڈاکٹر سعد بلگامی کے شکریہ پر جلسہ اختتام کو پہنچا۔